سرسی :16؍مارچ (ایس او نیوز) سرسی میں منعقدہ کانگریس لیڈران کی میٹنگ میں جب یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نے کہا کہ ’’ضلع نگراں کار وزیر آر وی دیش پانڈے کو پتہ چلے بغیر اترکینرا پارلیمانی حلقہ کا ٹکٹ جے ڈی ایس کو دینا ممکن ہی نہیں ہے ‘‘ تو کانگریسی ارکان نے ان کی بات کی حامی بھری اور کہا کہ دیش پانڈے کو خبر کئے بغیر یہ بات ممکن ہی نہیں ہے۔
بھٹکل کےسابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے بھی کہا کہ جب ’’ ضلع میں دیش پانڈے صاحب کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا تو پھر یہاں کی سیٹ تو بڑی بات ہے تو کارکنوں نے ان کی بات پر تالی ٹھوک کر گواہی دی کہ بالکل صحیح بات ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ کرناٹک میں جے ڈی ایس کو آٹھ سیٹ اور کانگریس کو بیس سیٹ کا فیصلہ ہونے کے بعداُترکنڑا پارلیمانی حلقہ بھی جےڈی ایس کی آٹھ سیٹوں میں شامل ہونے کی خبر پھیلتے ہی کانگریس کارکنان حیرت میں پڑگئے ہیں۔
شیورام ہیبار کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کانگریس کارکنان اب دبے الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ ’ کیا دیش پانڈے کو پہلے سے علم تھا کہ ہمارا حلقہ جے ڈی ایس کے حصہ میں جانے والاہے ؟ ایک کارکن نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کی لہر میں پارٹی ہار جاتی ہے تو ہار کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی اسی لئے صاحب پس و پیش میں پڑ گئے ہونگے۔ اب کارکنان مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے لیڈران برائے نام احتجاج اور میٹنگیں اس لئے کررہے ہیں کہ اپنی شخصیت کو دھکا نہ پہنچے ۔ ان کارکنان کے مطابق ٹکٹ تبدیل ہونے کے اب کوئی امکان نہیں ہے۔
اس سلسلے میں ڈی سی سی صدر بھیمنانائک سے پوچھا گیاتو انہوں نےکہاکہ ’پورے ضلع میں پارٹی کو مستحکم کرنے والے پارٹی کارکنوں کو دکھ پہنچنا فطری بات ہے، کارکنان خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کہیں مستقبل میں کانگریس کمزور نہ ہوجائے اسی لئے اپنی برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔ مگر وزیر دیش پانڈے پارٹی لیڈران سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کو ٹکٹ لانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔